سخن وری میں نئی طرز کی بلاغت ہے
شعُور شعر سے رخصت، عجب فِراسَت ہے
نہیں جو حُسنِ تَغّزُل تو پھر غزل کیسی؟
نہ ہو جو حُسنِ مَعَانی تو کیا سَلاسَت ہے؟
ہے ماورائے زمین و زماں جدید کلام
نہ شعریت، نہ روایت، فقط بغاوت ہے
گراؤ شوق سے ہر حرف ہے اسی لائق
چلن یہ عام ہے سب کو یہاں اجازت ہے
مزاجِ یار کا ہے پاس کِس قدر اُن کو
پھٹی ہے جینز مگر پہنیے، "روایت" ہے
تلازمات کا رکھو تمہی خیال کہ ہم
نکال لائے ہیں یہ قافیے، غنیمت ہے
محاورہ ہوا ناپید جب غزل سے تو پھر
نہ آپ ہم سے یہ کہیے زَباں سلامت ہے
خدا کی دین ہے یہ حَرف آشنائی بھی
کہ کارِ شعر بھی منصورٓ اک امانت ہے
منصورٓ نقوی